حوصلوں کو ساتھ رکھ بات سن کوشش تو کر
راز سے پردہ اٹھا تب ہی آیے گا نظر
عارضی ہیں شہرتوں کے تماشے تو سبھی
ایک جھٹکے میں اترنا ہے سب خوں کا اثر
تیری سانسوں نے بجھایے ہیں تیرے سب دیے
کیوں رکھے الزام ان ظلمتوں کا اور کے سر
ساتھ جن کے ہو کے تم پھولے پھرتے ہو بہت
سب یہیں رہ جائیں گے تنہا ہو گی رہ گزر
روشنی سے علم کی ہوتے جو پر آشنا
صبر کرتے اور دل کے نہ بھڑکاتے شرر
یاد کر مقصود جو جاں میں تیری ہے بسا
آنکھ میں آتا نہیں دل کو آتا ہے نظر
---

0
2