رُوح کی تسکین کا ساماں تھی میری والدہ
ہاں بِلا شک رحمَتِ یزداں تھی میری والدہ
تھیں وہ اسمِ با مُسمّہ، ہاں نسیم اختر تھا نام
بنتِ رحمت، دُختَرِ رمضاں تھی میری والدہ
اُن کی سانسیں گنتی کی تھیں جلد ہی پُوری ہوئیں
اس جہاں میں مختصر مہماں تھی میری والدہ
مرض میں کیا درد جھیلے، صبر و اِستِقلال سے
پھر بھی سب کے درد کا درماں تھی میری والدہ
میرے مولا تیری مرضی پر ہیں راضی ہم سبھی
تیری مرضی کے لئے کوشاں تھی میری والدہ
خادِمہ خاتُونِ جنّت اُن کو مولا دے بنا
ان کی خدمت پر سدا نازاں تھی میری والدہ
ہے دُعا زیرکؔ کی دل سے، راحتیں پائے ضمیر
کہتا ہے یہ مُجھ سے ہاں شاداں تھی میری والدہ

5