| غبارِ دشت میں سب کچھ پگھل گیا ہو گا |
| وہ بھی تو میری طرح سے بدل گیا ہو گا |
| میں جانتا ہوں کہ گھر بار چھوڑ کر اپنا |
| مری تلاش میں کوئی نکل گیا ہو گا |
| خزاں کا طور بتاتا ہے مجھ کو گل کی خبر |
| وہاں چمن بھی حوادث میں جل گیا ہو گا |
| اب اس مقام سے لانا اسے نہیں ممکن |
| وہ گردشِ شب و روزاں میں ڈھل گیا ہو گا |
| مرے رقیب کے ہاتھوں سے نور ہو جاری |
| حنا وہ اس کی ہتھیلی پہ مل گیا ہو گا |
| یہ لہریں دیکھ لو کھنگال کے ذرا ساگر |
| بدن کسی کا سمندر میں گل گیا ہو گا |
معلومات