تیری صورت تری تصویر بہت یاد آئی
مجھ کو اک لوہے کی زنجیر بہت یاد آئی
جب سنائی گئی دنیا کی زبانی مجھ کو
تیرے ہونٹوں کی وہ تفسیر بہت یاد آئی
بے قراری کی حدیں توڑنے والا تھا میں
پھر ترے ہجر کی تدبیر بہت یاد آئی
جب کسی سے نہ مرے خواب کا حل نکلا تھا
مجھ کو یوسف کی وہ تعبیر بہت یاد آئی
جب کیا چارہ گروں نے مرے زخموں کا علاج
مجھ کو بدنام مری ہیر بہت یاد آئی
مٹ گئی یوں تو مرے دل سے روایت تیری
بس وہی آخری تحریر بہت یاد آئی
درد آباد رہے غم کے سبب سے ساگر
دل کو آخر مری تقدیر بہت یاد آئی

0
3