لیا نام ان کا خیال آ گیا
پیا جام ان کا کمال آ گیا
قصیدہ کسی سے سنا یار کا
کہ چہرے پہ حسنِ جمال آ گیا
کلی جب کھلی گلوں سے یوں کہا
کہ مجھ میں بھی رنگِ گلال آ گیا
لیے اپنے ہاتھوں میں پھولوں کو جب
وہ آئے ہیں وقتِ وصال آ گیا
وہ کہتیں ہیں سب اعتباؔر آج بھی
تو پھر بزم میں حسبِ حال آ گیا

11