| لیا نام ان کا خیال آ گیا |
| پیا جام ان کا کمال آ گیا |
| قصیدہ کسی سے سنا یار کا |
| کہ چہرے پہ حسنِ جمال آ گیا |
| کلی جب کھلی گلوں سے یوں کہا |
| کہ مجھ میں بھی رنگِ گلال آ گیا |
| لیے اپنے ہاتھوں میں پھولوں کو جب |
| وہ آئے ہیں وقتِ وصال آ گیا |
| وہ کہتیں ہیں سب اعتباؔر آج بھی |
| تو پھر بزم میں حسبِ حال آ گیا |
معلومات