| تُف ہے ایسے عملے پر جو، اپنا فرض نبھا نہ سکے |
| جلتی آگ پہ قطرہ پانی، کا جو ایک بہا نہ سکے |
| جان بچائی ایک بھی جس نے، اُس نے سب کو بچایا ہے |
| ہاتھ سے اپنے کِتنوں کی ہم، ہائے جان بچا نہ سکے |
| جتنوں نے برتی ہے غفلت، اُن کو نصیحت جلد مِلے |
| اُس انسان سے کُتے بہتر، عہدِ وفا جو نبھا نہ سکے |
| ہو تدبیر مُقدّم ہر دم، دِین سے ہم کو درس مِلا |
| پھر بھی نجانے ہاتھ سے اپنے، ہم تقدیر مِٹا نہ سکے؟ |
| شرم نہ آئے تُم کو زیرکؔ، کیسے زباں کو چلاتے ہو |
| نفس کو اپنے راہِ شریعت، پر بتلا کیوں چلا نہ سکے؟ |
معلومات