مُعاف کر مِرے خُدا، برات کی یہ رات ہے
لبوں پہ جاری ہے دُعا، برات کی یہ رات ہے
عَمَل نہیں ہے کُچھ مِرا، گُناہ بھی ہیں بے بہا
تِرے کرم پہ ہے نِگاہ، برات کی یہ رات ہے
لگا دے نیکیوں میں دِل، نہ آخرت میں ہُوں خَجِل
ہو حُسنِ خاتمہ عطا، برات کی یہ رات ہے
بھنور میں میرا بخت ہے، جگر ہُوا دولخت ہے
غموں کو میرے دے مِٹا، برات کی یہ رات ہے
خطائیں بے شُمار ہیں، ہوئے ذلیل و خوار ہیں
عطا ہو پھر سے مرتبہ، برات کی یہ رات ہے
عزیز جتنے چل دِیے، شفاعَتِ نبی مِلے
عذاب سے اُنھیں بچا، برات کی یہ رات ہے
یہ زیرکؔ اُن کا ہے گدا، دیار اُن کا دے دِکھا
اُنھی کا دُوں میں واسطہ، برات کی یہ رات ہے

0
4