"پہاڑوں کی فطرت میں دوستی ہے "
‎ وہ وادیاں
‎وہ کہساروں کے سینے سے پھوٹتے چشمے
‎وہ بل کھاتی راہیں
‎وہ دل میں اترتے نظارے۔۔۔۔
‎لوحِ قلب پر ثبت ہو چکے ہیں
‎نئی رفاقتیں
‎چند بے ساختہ مسکراہٹیں
‎اور دلوں میں اترتے ہوئے لمحے۔۔۔
‎یادوں کا مستقل حوالہ بن گئے ہیں
‎چند دنوں کی رفاقت ہمیں
‎صدیوں کا احساس دے گئی ہے
‎چند اجنبی چہرے
‎ دل کی کتاب میں
‎اپنے نام رقم کر گئے ہیں
‎تب جانا
‎دوستی بھی آبشار کی مانند ہے
‎جو دل سے پھوٹے
‎تو مدتوں بہتی رہتی ہے
‎شاید اسی لیے
‎"پہاڑوں کی فطرت میں دوستی ہے
‎اور دوستی کی سرشت میں
‎پہاڑوں جیسی وسعت"

0
21