| تھی کڑی دھوپ رہ سرابوں کی |
| ہے گیا سال ، راکھ خوابوں کی |
| روشنی تھی سوال ہر حد تک |
| زندگی تھی کہ شب عذابوں کی |
| خوشبو سے تھی فضا معطر گو |
| باس تھی جلتے پر گلابوں کی |
| تھم گیا دل ، ٹھہر گئیں سانسیں |
| بات جب بھی ہوئی حجابوں کی |
| یاد ہیں کچھ الم نصیبوں کے |
| کچھ سزا تھی نئے نصابوں کی |
| کون جانے نئے برس ہو کیا |
| پھر نظر ہو کہاں قصابوں کی |
| دار پر سب رہے کھنچے شاہد |
| پل صلیبیں تھیں گم حسابوں کی |
معلومات