تضمین نمبر 3
تضمین واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
, کلام حسان الھند اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
ـــــ------------------------------------------------
واہ کیا فیضِ نِعَم ہے مرے آقا تیرا
آتے ہیں پینے جہاں سب ، وہ ہے چشمہ تیرا
جَوشِ رَحمت پہ سَخاوت کا ہے دَریا تیرا
واہ کیا جُود و کَرَم ہے شہِ بَطْحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
ہم بھکاری ہیں جہاں کے وہ ہے قصبہ تیرا
بٹ رہا ہے جہاں میں جو وہ ہے صدقہ تیرا
سب لیے جاتے جہاں سے وہ ہے باڑا تیرا
دَھارے چلتے ہیں عَطا کے وہ ہے قَطْرہ تیرا
تارے کھِلْتے ہیں سَخا کے وہ ہے ذَرَّہ تیرا
راج ہے اے شہِ کَونین انوکھا تیرا
کھاتا ہے سارا جَہاں روز نَوَالا تیرا
کافی ہے اے شہِ دارین حوالا تیرا
فیَض ہے یا شَہِ تَسْنِیْم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تَجَسُّسْ میں ہے دَریا تیرا
اَنْبِیَا پاتے ہیں تَسْکیں، وہ ہے جَلوہ تیرا
اَوْلِیَا رَکھتے ہیں سَر پر، وہ ہے تَلوا تیرا
اَسْخِیَا کھاتے ہیں جِس سے، وہ ہے دانہ تیرا
اَغْنِیَا پَلتے ہیں دَر سے، وہ ہے باڑا تیرا
اَصْفِیَا چَلتے ہیں سَر سے، وہ ہے رَسْتہ تیرا
کیسی دی ہیں تجھے رب نے یہ نرالی شانیں
تجھ پہ کر دی ہیں جہاں نے فدا اپنی جانیں
ہاں مَگَر یہ تِری نسبت کے عَدُو کیا مانیں
فَرْش والے تِری شَوکت کا عُلُو کیا جانیں
خِسْرَوَا عَرْش پہ اُڑ تا ہے پَھرِیرا تیرا
تیری آمد ہے زمانے پہ خدا کا احسان
معترف ہیں ترے جود و سخا کے سب انسان
کی عیاں سب پہ خدا نے جہاں میں تیری شان
آسماں خَوان زمیں خَوان زمانہ مَہمان
صاحبِ خانہ لَقَب کِس کا ہے تیرا تیرا
ہے ملا تجھ کو خدائے جہاں سے رتبہ عجیب
کوئی پہنچا نہیں اس رتبے کے ادنیٰ سا قریب
تیرے پایہ کا نہ پائے کہیں سدرہ کا خطیب
میں تو مالِک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حَبیب
يعنی مَحبوب و مُحِب میں نہیں میرا تیرا
چُھوٹا جن سے تِرَا در خَيْر کا منہ کیا دیکھیں
دیکھ لیں جو تِرا در، دَیر کا منہ کیا دیکھیں
دیکھیں پَرواز تری ، طَیْر کا منہ کیا دیکھیں
تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نَظروں پہ چڑھے دیکھ کے تَلوا تیرا
سر کا رتبہ کہاں،کوئی نہیں تیرے پا سا
بھرتے ہیں تیرے ہی در سے سبھی اپنا کاسا
بھیک مانگوں، گا تجھی سے، نہیں ہے اور پا سا
بَحْرِ سَائل کا ہوں سَائل نہ کنویں کا پیاسا
خود بجھا جائے کلیجہ مرا چھینٹا تیرا
اَب کہاں جائیں گُنَہ گار لے کے لَاف گَزاف
ڈھونڈیں اس کو جو کرے اپنے کَرَم سے یہ مُعَاف
جو گُنَہ گاروں کے سب کاموں پہ ہی ڈالے غِلَاف
چَور حاکِم سے چھپا کرتے ہیں یاں اس کے خِلاف
تیرے دامن میں چھُپے چَور اَنوکھا تیرا
دیکھتے ہی ہوں فِدا جس پہ ہَزاروں مَہْتَاب
ہر رَگِ جان بھی تَڑپا کرے مِثْلِ سِیْماب
دل سبھی اک ہی جَھلَک دیکھ کے ہو جائیں بے تاب
آنکھیں ٹَھنڈی ہوں جِگَر تازے ہوں جانیں سیراب
سچِّے سُورَج وہ دل آرا ہے اُجَالا تیرا
خَوفِ مَحْشَر سے ابھی دِل بھی ڈَرا جاتا ہے
اب عَمَل سَوچ کے تو سانس رُکا جاتا ہے
تیری رَحْمت کا بَھرَم، کام بنا جاتا ہے
دل عَبَث خوف سے پَتَّا سا اڑا جاتا ہے
پَلَّا ہلکا سہی بھاری ہے بَھروسا تیرا
تیرا ہو کے بھی نہ چُھوٹوں تو خَجالت کِتْنِی
خیر مانگوں کسی سے تو ہے ندامت کتنی
تیرے آگے مرے جرموں کی ہے شامت کتنی
ایک میں کیا مرے عِصْیَاں کی حقیقت کِتْنِی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اِشارہ تیرا
حَشْر کا چرچا بڑا، پر یوں تو شامت نہ پَڑی
ہر نصیحت بھی سنی تھی، کبھی قیمت نہ پَڑی
جانتا بھی تھا، عَمَل کی کبھی ہِمَّت نہ پَڑی
مُفْت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پَڑی
اب عَمَل پوچھتے ہیں ہائے نِکَمَّا تیرا
ہم کو کافی ہے گدائی ، زرِ قیصر پہ نہ ڈال
تیرے در پر ہی پڑے ہیں کسی اور در پہ نہ ڈال
کھائیں گے تیرے نَوالے کسی دیگر پہ نہ ڈال
تیرے ٹُکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جِھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
دو مجھے جو سزا بھی اس کا سزاوار ہوں میں
ہوں برا بھی میں سیہ کار ہوں بے کار ہوں میں
کچھ عَمَل کا بھی خزانہ نہیں نادار ہوں میں
خَوار و بیمار و گُنہ گار و خَطاوار ہوں میں
رافع و نافع و شافع لَقَب آقا تیرا
میری قِسْمَتْ جو ہےکھوٹی تو کَھری کردے کہ ہے
میری ہِمَّت میں ہے سُسْتی تو جَری کردے کہ ہے
میرے جُرموں کے ہیں دفتر تو بَری کر دے کہ ہے
میری تَقْدِیْر بُری ہو تو بَھلی کردے کہ ہے
مَحْوَ و اِثْبات کے دَفتر پہ کڑوڑا تیرا
تُو جَو چاہے تَو سَبھی آج غِطا دِل سے ہٹیں
تُو جَو چاہے تَو اَبھی کان مِرے دِل کے سُنیں
تُو جَو چاہے تَو لَطَائِف یہ مِرے دِل کے کھُلیں
تُو جَو چاہے تَو ابھی مَیل مِرے دِل کے دُھلیں
کہ خُدا دِل نہیں کرتا کبھی مَیلا تیرا
ہم غَریبوں کی ہے بِپتا یہ بے حِس سے کہیے؟
کَب سُنے کوئی غَریبوں کی یہ جِِس سے کہیے
جَو سُنے بھی تَو غَریبوں کی ہاں اِس سے کہیے
کِس کا منہ تکئے کہاں جائیے کِس سے کہیے
تیرے ہی قَدْموں میں مِٹ جائے یہ پالا تیرا
تُو نے عِرْفان دیا تُو نے سَعَادت میں لیا
تُو نے اِحْسان کیا تُو نے شَفَاعت میں لیا
تُو نے اِیْمَان دیا تو نے کَرَامت میں لیا
تُو نے اِسلام دیا تُو نے جَمَاعت میں لیا
تُو کَرِیم اَب کوئی پِھرتا ہے عَطِیَّہ تیرا
اَب گُزَارا ہے میں نے زِندگی کا سارا شَبَاب
ہاں مُکَمَّلْ ہو رہا ہے یوں مِرا سَب یہ نِصَاب
ہَو رہی ہے یُوں مُکَمَّلْ یہ کہانی کی کتاب
مَوت سُنتا ہوں سِتَم تَلْخ ہے زَہْرَابہِ نَاب
کَون لادے مُجھے تَلووں کا غُسَا لَہ تیرا
زِندگی ہو درِ سَرْکار پہ جَیسی گُزْرِے
میں پَڑا ہی رَہوں کاسَہ لئے اَیسی گُزْرِے
بَس فَقیروں مِیں مَیں شَامِل رہوں وَیسی گُزْرِے
دُوْر کیا جانئے بَد کار پہ کیسی گُزْرِے
تیرے ہی در پہ مَرے بے کس و تنہا تیرا
دُوْرِی میں میرے دلِ زَار پہ کَیسی گُزْرِے
گور میں تیرے خَطَا کَار پہ کَیسی گُزْرِے
حشر میں اَیسے گُنَہ گَار پہ کَیسی گُزْرِے
دُور کیا جانئے بد کار پہ کَیسی گُزْرِے
تیرے ہی دَر پہ مَرے بے کَس و تَنْہَا تیرا
یہ زَمیں اور یہ فِضَا نُور تِرِے نے گھیری
عَرْش تَک ساری جَگَہ فیَض تِرِے کی پِھیری
رَاج ہے تیرا ، لگی آس تُجھی سے میری
تیرے صَدْقے مُجھے اک بوند بَہُت ہے تیری
جِس دن اَچَّھوں کو مِلے جام چَھلَکْتا تیرا
سَب تِرِی ہی دیں دُہائی، ہے تُو ہی جائے پَنَاہ
تیرے بِن کوئی نہ چَارہ، نہ کِسِی سے ہو نِبَاہ
سب گَدَا تیرے، مِٹیں سب کے تِرِے صَدقے گُنَاہ
حرم و طیبہ و بغداد جدھر کیجئے نِگاہ
جَوت پَڑتی ہے تِرِی نور ہے چھَنتا تیرا
رضْوِی لایا ہے رضا کا تُو یہ مَضمونِ رَفیع
کہاں سے سیکھا رضا نے ہے یہ اُسلوبِ مَنیع
ہے رضا کا جو وسیلہ وہ بڑا اونچا وَقیع
تیری سَرْکَار میں لَاتا ہے رضا اس کو شَفِیْع
جَو مِرا غَوث ہے اور لاڈَلا بیٹا تیرا
ـــــ------------------------------------------------
تضمین نگار :ابوالحسنین محمد فضلِ رسول رضوی، کراچی

2
4748
ماشآء اللّٰہ عزوجل بہت خوب سبحان اللہ سبحان اللہ

شکریہ جزاکم اللہ خیرا کثیرا فی الدارین