| تنہائیوں سے پیار تمھارے سبب ہوا |
| میں پھر سے اشکبار تمھارے سبب ہوا |
| زنجیر ڈال کر مجھے رفتار دی گئی |
| یہ ظلم باربار تمھارے سبب ہوا |
| تم جانتے ہو مری کوئی دشمنی نہیں |
| کل شام مجھ پہ وار تمھارے سبب ہوا |
| خاموش میری آنکھ تھی خاموش تھی زباں |
| میں سب پہ آشکار تمھارے سبب ہوا |
| نے کیا ہوا ہے مجھے مجھ سے آشنا |
| اس زندگی سے پیار تمھارے سبب ہوا |
| پہلے فقط زمان تھا صائب ہوا ہوں اب |
| یہ معجزہ بھی یار تمھارے سبب ہوا |
| زمان صائـــب |
معلومات