| میں حرفوں کے کھنڈر کھنگالتا ہوں |
| کوئی اسمِ ہنر کھنگالتا ہوں |
| نگاہیں عرش پر کیا ڈھونڈتی ہیں |
| دعائے بے اثر کھنگالتا ہوں |
| میِری آوارگی یہ پوچھتی ہے |
| یہ کیا میں در بدر کھنگالتا ہوں |
| مجھے منزل ملے گی کیا کروں گا |
| سفر پر میں سفر کھنگالتا ہوں |
| میں اپنے آپ میں ڈوبا نہیں ہوں |
| تہہِ ہستی گُہر کھنگالتا ہوں |
| سراغِ ہستی گم گشتہ مل جائے |
| پرانی یادیں گر کھنگالتا ہوں |
| اندھیرے میں کوئی جگنو ملے گا |
| سو اس کو بے خطر کھنگالتا ہوں |
| میں اُڑتا ہوں کہ اپنے بال و پر سے |
| ہوا کے بال و پر کھنگالتا ہوں |
معلومات