صد شکر ہوا ہم کو ہے رمضان میسر
آیا ہے یہ اللہ کا مہمان میسر
لے کر تو نوید آتا ہے رحمت کی کرم کی
ہوتا ہے سیہ کار کو غفران میسر
اک شب ہے تری کتنے مہینوں سے بھی افضل
ہے اور کہاں ایسا شبستان میسر
قرآں کی تلاوت سے منور ہیں دل و جاں
بخشش کے ہوئے سینکڑوں سامان میسر
پر نور بہت سحری و افطار کا منظر
ہر لمحہ ہر اک آن ہے عرفان میسر
کلیاں بھی مواسات کی ہر سمت کھلی ہیں
ہے کیسا حسیں ہم کو گلستان میسر
اک جذبۂ تسلیم و رضا اس نے سکھایا
ہر حکمِ خدا پر میں کروں جان میسر
اس پستی و رسوائی سے یارب ہو خلاصی
کر دے ہمیں کچھ ایسے بھی امکان میسر
بے پایاں ہیں اس ماہِ مقدس کے فضائل
ہاں ناز اسی میں ہوا قرآن میسر

0