| نام شہرت نا ہی عزت چاہیے |
| مجھکو اس دنیا سے رُخصت چاہیے |
| کشتی میری ساحلوں پر ڈوبی ہے |
| میرے جیسی کس کو قسمت چاہیے |
| دیکھ جس کو آنکھیں ویراں ہوگئیں |
| مجھکو ان خوابوں کی قیمت چاہیے |
| فطرتیں جو سانپ جیسی رکھتے ہوں |
| ایسے یاروں کی نہ سنگت چاہیے |
| چاہتا ہے یہ زمانہ ہم سے کیا ؟ |
| سانس لینے پر بھی رشوت چاہیے |
| اب میں گھبراتا نہیں تنہائی سے |
| اب نہ انسانوں کی صحبت چاہیے |
| یاخدایا لے لے میرا حافظہ |
| نیند میں رہنے کی غفلت چاہیے |
| مجھ سے اب یہ زندگی کٹتی نہیں |
| مر بھی جاؤں اتنی غیرت چاہیے |
| اس جہاں میں رہ کے اب کرنا ہے کیا |
| عیش و عشرت ناہی دولت چاہیے |
| اے فرشتوں لے چلو اب اُس جہاں |
| اب نہ مجھ کو کچھ بھی مہلت چاہیے |
| ہوگئے ہیں بیوہ میرے سارےخواب |
| میری اِن آنکھوں کو عِدّت چاہیے |
| عشق کرنے کی سزا کچھ ایسی ہو |
| دیکھے دنیا ایسی عِبرت چاہیے |
معلومات