بھلا ہو محبت کے پہلے دنوں کا
بھرم ایک دوجے کا رکھتے تھے دونوں
اگرچہ وفادار اک بھی نہیں تھا
مگر باوفا ہیں یہ کہتے تھے دونوں
وہ یادیں تری رقص کرتی ہیں دل پر
ندی کے کنارے میں چلتے تھے دونوں
تخیل ترا من سے جاتا نہیں ہے
شبِ غم اسی غم میں جلتے تھے دونوں
گلی سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا
قدم اس طرف کو ہی اٹھتے تھے دونوں
مقدر سے بڑھ کر جو چاہو وہ پاؤ
دعائیں یہ ماں باپ دیتے تھے دونوں
کسی نے کسی کو گنوایا یا پایا
مگر میں نے دیکھا ہے روتے تھے دونوں

15