| بھلا ہو محبت کے پہلے دنوں کا |
| بھرم ایک دوجے کا رکھتے تھے دونوں |
| اگرچہ وفادار اک بھی نہیں تھا |
| مگر باوفا ہیں یہ کہتے تھے دونوں |
| وہ یادیں تری رقص کرتی ہیں دل پر |
| ندی کے کنارے میں چلتے تھے دونوں |
| تخیل ترا من سے جاتا نہیں ہے |
| شبِ غم اسی غم میں جلتے تھے دونوں |
| گلی سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا |
| قدم اس طرف کو ہی اٹھتے تھے دونوں |
| مقدر سے بڑھ کر جو چاہو وہ پاؤ |
| دعائیں یہ ماں باپ دیتے تھے دونوں |
| کسی نے کسی کو گنوایا یا پایا |
| مگر میں نے دیکھا ہے روتے تھے دونوں |
معلومات