| ہے مجھے امید ، شامِ غم، سحر ہو جائے گی |
| رحمتِ باری اگر پیشِ نظر ہو جاۓ گی |
| ہاتھ پھیلانے سے بہتر، سیکھ لو کوئی ہنر |
| زندگی گزرے نہیں، تب بھی بسر ہو جائے گی |
| ہو سکے تو کانٹے چُن لے دوسروں کی راہ سے |
| خود تری بھی پھول جیسی رہگزر ہو جاۓ گی |
| دیکھ لے گا وہ اگر بھر پور نظروں سے مجھے |
| دل کی ویرانی، بہاروں کا نگر ہو جائے گی |
| خامشی میری، اگر ٹوٹی تو محشر آئے گا |
| یہ زباں جس دن کھلی، تیغ و تبر ہو جائے گی |
| ایک حسرت ہے کہ چھو لوں چاند کو ہاتھوں سے میں |
| جستجو میری یہ اک دن کارگر ہو جائے گی |
| ظلم کی مضبوط ہی بنیاد چاہے کیوں نہ ہوں |
| حق کی اک جنبش سے وہ زیر و زبر ہو جائے گی |
| گھومتا ہوں ایک مجنوں کی طرح میں شہر میں |
| میری حالت کی تقی اس کو خبر ہو جائے گی |
معلومات