| حشر برپا ہر جگہ ہے، جس جگہ بھی جائیے |
| خلق کو دست و گریباں ہی میں الجھا پائیے |
| بستیاں ویران ہیں اور ذہن ویرانے ہوئے |
| اپنے گھر میں اب یہاں غیروں سے دھوکا کھائیے |
| کیا زمانہ آ گیا نیکی کا اب رتبہ نہیں |
| وہ ہی منہ کو آتا ہے جس پہ کرم فرمائیے |
| خود فریبی کا لبادہ اوڑھ کر بیٹھےسبھی |
| راست گوئی جرم ہے، چپ چاپ جیتے جائیے |
| خود عمل سے دور رہ کر وعظ سب کو کیجیے |
| کچھ نہ کیجیے بیٹھ کر بس رہنما بن جائیے |
| آگ لگتی ہو کہیں تو لطف لے کر دیکھیے |
| اور لوگوں کو نصیحت خوب اب فرمائیے |
| خونِ ناحق پر یہاں اب کون دیتا ہے صدا |
| لاپتہ ہو جائے کوئی، مصلحت اپنائیے |
| سچ اگر کہہ دے کوئی، اس کو برا کہیے مگر |
| جھوٹ کو اندازِ شیریں میں مقابل لائیے |
| دیکھ کر یارو یہ دنیا، دل بہت بوجھل ہوا |
| اپنے ہی اندر کی بستی روشنی پھیلائیے |
| دیکھ کر اخترؔ زمانے کا چلن حیرت ہوئی |
| گھر جلے تو ہاتھ تالی مار کر گرمائیے |
معلومات