| مری زندگی میں خوشی بھی ہے، مری زندگی میں الم بھی ہے |
| اِسی بے بسی میں گھری ہے جاں، یہی زندگی کا ستم بھی ہے |
| کبھی صبحِ نَو کی کرن ملی ، کبھی شامِ غم کی چُبھن ہوئی |
| کبھی دل میں زندہ اُمنگ رہی، ابھی دل میں دردِ بَہَم بھی ہے |
| کبھی آنکھ میں وہ سما گئے، کبھی حال دل بھی سنا گئے |
| کبھی درد دے کے رلا گئے، مرے دل پہ سب یہ رقم بھی ہے |
| کبھی شکوہ لب پے نہ لا سکا ، ہنرِ گلہ بھی نہ پا سکا |
| نہ زمانے کو یہ بتا سکا، مرے صبر کا یہ بھرم بھی ہے |
| لے منورَ اپْنا دیا جلا ، اُسے اِس طرح سے جلا ذرا |
| جسے دیکھ کر یہ کہے ہَوا، ابھی اس دِیے میں تو دم بھی ہے |
معلومات