۔۔۔۔۔ غزل ۔۔۔۔۔
دل در خیالِ یار چو مہتاب ہو گیا
شب تیرگی میں مثلِ چَراغاب ہو گیا
اک نقش پا تھا راہ میں افتادہ، ہم نے بس
سو بار بوسہ داد، سرِ خواب ہو گیا
لب تشنۂ وصال تھے، لیکن جنابِ وقت
ہر بار میکدے میں سَراباب ہو گیا
شہزاد ، آہِ سرد نے کیسا اثر کیا
دل مثلِ برگِ زرد شَتاباب ہو گیا
دل کو گماں تھا وصل کی شب آ رہی مگر
پھر ماہتاب سایۂ محراب ہو گیا
بختِ سیاہ، اشکِ رواں، ہجر کا الم
یہ کیسا روزگارِ عَذاباب ہو گیا؟
رفتی، لہذا خاک بہ بادِ صبا شدی
دل حسرتوں کے دشت میں بیتاب ہو گیا
شائم! مٹا کے اپنا ہی نقشِ قدم یہاں
میں خود غبارِ راہِ احباب ہو گیا
شائم ؔ

27