۔۔۔۔۔ غزل ۔۔۔۔۔ |
دل در خیالِ یار چو مہتاب ہو گیا |
شب تیرگی میں مثلِ چَراغاب ہو گیا |
اک نقش پا تھا راہ میں افتادہ، ہم نے بس |
سو بار بوسہ داد، سرِ خواب ہو گیا |
لب تشنۂ وصال تھے، لیکن جنابِ وقت |
ہر بار میکدے میں سَراباب ہو گیا |
شہزاد ، آہِ سرد نے کیسا اثر کیا |
دل مثلِ برگِ زرد شَتاباب ہو گیا |
دل کو گماں تھا وصل کی شب آ رہی مگر |
پھر ماہتاب سایۂ محراب ہو گیا |
بختِ سیاہ، اشکِ رواں، ہجر کا الم |
یہ کیسا روزگارِ عَذاباب ہو گیا؟ |
رفتی، لہذا خاک بہ بادِ صبا شدی |
دل حسرتوں کے دشت میں بیتاب ہو گیا |
شائم! مٹا کے اپنا ہی نقشِ قدم یہاں |
میں خود غبارِ راہِ احباب ہو گیا |
شائم ؔ |
معلومات