تضمین نمبر 2
تضمین:-چَمَک تجھ سے پا تے ہیں سب پا نے والے
کلام حسان الھند اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
_____________________
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
حِرا سے پَیَامِ خُدا لانے والے
جَہاں سے اندھیرے مِٹا جانے والے
شَبِ تار میں نور لے آنے والے
چَمَک تُجھ سے پا تے ہیں سب پا نے والے
مِرا دِل بھی چَمْکا دے چَمْکانے والے
قِیَامت میں ظاہِر ہے شانِ سِیادت
کسی کو خُدا نے نہیں دی اِجازت
کرے تجھ سے پہلے جو اس دن شَفاعت
بَرَسْتا نہیں دیکھ کر اَبرِ رَحمت
بَدوں پر بھی بَرْ سا دے بَرْسانے والے
تِرے دَر سے مِلتی ہے ہر ایک نِعمت
خُدا کے خَزانوں پہ تیری حُکُومت
تِری ہم پہ ہو اب نِگاہِ عِنایت
بَرَسْتا نہیں دیکھ کر اَبرِ رَحمت
بَدوں پر بھی بَرْ سا دے بَرْسانے والے
گناہوں سے چھائی ہے ہم پر نُحُوسَت
بچائے گی ہم کو تری ہی حِمایت
ٹلے گی ترے صدقے ہر اک مُصِیبت
بَرَسْتا نہیں دیکھ کر اَبرِ رَحمت
بَدوں پر بھی بَرْ سا دے بَرْسانے والے
اے جَنَّت کے ٹکڑے خُدا تجھ کو رکھے
اے رَحمت کے جلوے خُدا تجھ کو رکھے
غَریبوں کے ڈیرے خُدا تجھ کو رکھے
مَدِینے کے خِطِّے خُدا تجھ کو رکھے
غَریبوں فَقیروں کے ٹھہرانے والے
خدائے جَہاں کا تو جَلوہ ہے وَاللّٰہ
جَہاں کی بَقا تیرا صَدقہ ہے واللہ
بتاتا سبھی کو یہ بَندہ ہے وَاللّٰہ
تو زِندہ ہے وَاللّٰہ تو زِندہ ہے وَاللّٰہ
مِرے چَشم‌ِ عَالَم سے چھپ جانے والے
کہے جو تجھے مُرْدَہ ، مُرْدَہ ہے وَاللّٰہ
کہ حُکمِ خدا میں یہ کُنْدَہ ہے وَاللّٰہ
ترے صدقے ہی زِندہ خَندہ ہے وَاللّٰہ
تو زِندہ ہے وَاللّٰہ تو زِندہ ہے وَاللّٰہ
مرے چَشم‌ِ عَالَم سے چھپ جانے والے
میں تنہا ہوں آقا نِگاہِ کرم ہو
میں بھٹکا ہوں آقا مجھے رَہْ دِکھادو
میں مُفْلِس ہوں کر دو عَطا مجھ گَدا کو
میں مُجرِم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
کہ رَستے میں ہیں جابجا تھانے والے
حَرَم سے جُدا ہو کے ہاتھوں کا مَلنا
وہاں سے یہاں پھر یوں روتے ہی مَرنا
ارے چل! وہاں سے اِدھر آکے رہنا
حَرَم کی زمیں اور قَدَم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانے والے
حَرَم میں خُودی کا بَھرم رکھ کے چلنا
وہاں بے اَدَب کا دَھرم رکھ کے چلنا
وہاں جا کے بھی دِل میں ہم رکھ کے چلنا
حَرَم کی زمیں اور قَدَم رکھ کے چلنا
ارے سَر کا موقع ہے او جانے والے
کَرامت کا سِہرا ہے آقا کے سر پر
سَخاوت کا باڑا ہے آقا کے در پر
زمانہ بھی پلتا ہے ان کے ہی زَر پر
چل اٹھ جبہہ فرسا ہو ساقی کے در پر
درِ جُود اے میرے مَستانے والے
کبھی یہ خُدا کے حَبیبوں سے اُلْجِھیں
کبھی یہ نبی کے کَمالوں سے اُلْجِھیں
کبھی یہ رضا کے کَلاموں سے اُلْجِھیں
ترا کھائیں تیرے غُلاموں سے اُلْجِھیں
ہیں مُنکِر عَجَب کھانے غُرَّانے والے
یہ نَجدی کہاں نعت ان کی کہے گا
یہ ذِکرِ نبی سے ہمیشہ جَلے گا
سَڑے گا یوں ہی ان کا دشمن سَڑے گا
رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جَل جانے والے
خُدا کی عَدالت کی سَاعت اب آئی
ہماری سَعادت کی سَاعت اب آئی
اب آئی عِنایت کی سَاعت اب آئی
اب آئی شَفاعت کی سَاعت اب آئی
ذرا چین لے میرے گھبرانے والے
اَدَب کی جا ہے زیر و بَم میں نہ آنا
کبھی بھی عَقیدے، میں خَم میں نہ آنا
اے رضْوی، ثَنا میں تو کَم میں نہ آنا
رضا نفس دشمن ہے دَم میں نہ آنا
کہاں دیکھے تم نے چندرانے والے
--------------------------------------
تضمین نگار ابو الحسنین محمد فضل رسول رضوی
نورِ حمزہ اسلامک کالج کراچی

1
13791
بے مثال