| حال مت پوچھیے کیا ہو گیا کہتے کہتے |
| اشک رکتے نہ تھے رخسار پہ بہتے بہتے |
| ہائے وہ وقتِ جدائی کا لپٹ کر رونا |
| یاد آتا ہے وہ منظر مجھے رہتے رہتے |
| ہم نے الفت کے سفر میں نہیں پائی منزل |
| پاؤں شل ہو گئے اس راہ میں چلتے چلتے |
| گل نے زخموں کا کبھی ذکر کسی سے نہ کیا |
| ہنستا رہتا ہے چبھن خار کی سہتے سہتے |
| ایک چنگاری عداوت کی بنی ہے شعلہ |
| آ گ پھیلی ہے بہت دور یہ جلتے جلتے |
| اب کے گلشن میں بہاریں نہ رہی ہیں رنگیں |
| رنگ پھولوں کا اڑا جاتا ہے کھلتے کھلتے |
| زندگی تو نے کسے بخشا ہے، اک نام بتا |
| ہر کوئی جیتا ہے حالات سے لڑتے لڑتے |
| وقت بھر دیتا اگر زخم تو کیونکر اے کنولؔ |
| سوزِ دل کم نہ ہوا عمر کے ڈھلتے ڈھلتے |
معلومات