گوشہ نشیں ہوں کب سے گویا نہیں ہوں میں
لیکن یہ معجزہ ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
جب سے ہوئی ہے دولتِ عرفاں مجھے نصیب
دنیا میں رہ کے شاملِ دنیا نہیں ہوں میں
دل میں چراغِ شوق ہے بجھتا نہیں ابھی
حالات سے شکستہ ہوں، ٹوٹا نہیں ہوں میں
مشکل نہیں ہے دوستو تسخیرِ کائنات
افسوس اپنے آپ پہ یکسو نہیں ہوں میں
ہر صبح دے رہی ہے نیا اک سبق مجھے
اک یادگارِ عہدِ گزشتہ نہیں ہوں میں
حاصل ہے مجھ کو لذتِ توبہ خطا کے بعد
بہتر ہے آدمی ہوں، فرشتہ نہیں ہوں میں

2