قلم لیے گئے ، کاسے تھما دیے گئے ہیں
ہم ایسے تھے نہیں جیسے بنا دیے گئے ہیں
جو ہاتھ ہم سے ہوا ہے ، نہیں کسی سے ہوا
ہمارے عیب و ہنر تک چھپا دیے گئے ہیں
فقط لفافے پڑے رہ گئے درازوں میں
خطوط جتنے تھے سارے جلا دیے گئے ہیں
سدا وہ خوگرِ تعبیر ہم کو یاد رہا
مثالِ خواب تھے سو ہم بھلا دیے گئے ہیں
کسی کو اتنی خوش آئی فضائے تنہائی
منڈیر تک سے پرندے اڑا دیے گئے ہیں
ہمارا ہوش سے بس واجبی تعلق ہے
ہم ایسے لوگ جنوں کی دعا دیے گئے ہیں
بدلتے رہتے ہیں ایام بر سرِ عالم
جو سر بلند تھے آخر جھکا دیے گئے ہیں
یہ بات باعثِ حیرت ہے ، لفظ ہیں یکساں
مگر خیال سبھی کو جدا دیے گئے ہیں
سمے نے بدلی ہے فہرستِ دوستاں آسیؔ
کبھی جو لازمی تھے اب مٹا دیے گئے ہیں
قمرآسیؔ

0