مذہب کی لے کر اوٹ، توبہ توبہ
رہبر نے کی ہے لُوٹ، توبہ توبہ
انصاف کا منصف بہاتے ہیں خوں
بدلے میں لے کر نوٹ، توبہ توبہ
چہرے پہ تو اخلاص کے شگوفے
دل میں ہے لیکن کھوٹ، توبہ توبہ
جذبات سے خالی ہیں سارے رشتے
دل بن گیا روبوٹ، توبہ توبہ
ہو تو گئی مرنے کی عمر لیکن
ہونٹوں پہ ہر پل جھوٹ، توبہ توبہ
مہنگائی سے اب کے اتر گئی ہے
پتلی پھٹی لنگوٹ، توبہ توبہ

0
2