| تھم جاؤ رک جاؤ مجھے تھوڑا سنبھلنے دو |
| گر درد کی آگ میں جل رہا ہوں تو جلنے دو |
| یہ تڑپنا اور یہ آہیں بھرنا فضول ہے اب |
| سنو اے میرے پاگل میرے دیوانے دل |
| جو تمہاری تمنا تھی جو تمہاری آرزو تھی |
| وہ نہیں ہوا تو اے دیوانے دل کیا کروں میں |
| مجھے بولو کیا کروں میرے ہاتھوں میں کیا ہے |
| دیکھو یہ خالی ہاتھ ان ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں |
| یہ وہ ہاتھ ہیں جو ان کے جادوئی ہاتھوں کے |
| اک لمس کا بھی حق دار نہیں اے میرے دل |
| تھم جاؤ رک جاؤ مجھے تھوڑا سنبھلنے دو |
| یہ سخت گھڑی یہ لا یعنی پل ڈھلنے دو |
| تم کب تک اک جانے والے لمحے کو یوں |
| روؤ گے، پچھتاؤ گے سوگ مناؤ گے |
| یہ وقت کا دریا ہے اس نے یونہی بہنا ہے |
| تم نے دریا کے کنارے کب تک رہنا ہے |
| اپنے دکھ کے کنکر دریا میں پھیک دو اب |
| سنو یہ دریا سنو تم کو صدائیں دیتا ہے |
| اٹھو ڈوبو اس دریا میں گم ہو جاؤ |
| مجھے بھی اب سونے دو اور خود بھی سو جاؤ |
| اٹھو اس بے نور فلک کو تکنے سے کیا ہوگا |
| اٹھو اے میرے پاگل میرے دیوانے دل |
| جو بھی ہے جیسا بھی ہے مجھ کو قبول ہے سب |
| اب نظریں اٹھاؤ میری آنکھوں میں دیکھو |
| دیکھو یہ خالی خالی بنجاری آنکھیں |
| ترسائی ہوئی آنکھیں ٹھکرائی ہوئی آنکھیں |
| ان آنکھوں نے کیسے کیسے خواب سجائے تھے |
| روشن آنکھوں کے خواب گلاب لبوں کے خواب |
| گھنگرالے زلفوں کے خواب، منزہ بدن کے خواب |
| بھوری باہوں کے خواب جواں ہاتھوں کے خواب |
| تاباں شاموں کے خواب اجلی صبحوں کے خواب |
| کیسے کیسے لاحاصل اور پتھر دل خواب |
| بس اک لمحے میں بکھر گئے سب پتوں کی طرح |
| دیکھو میرے دل ان آنکھوں میں کچھ بھی نہیں |
| بس محرومی ہے محرومی کا کیا کروں میں |
| یہ بے بسی دیکھو دیکھو میں کچھ نہیں کر سکتا |
| اٹھو اب دیکھو ساری دنیا سو گئی ہے |
| اب اتنی دیر ہوئی کہ ستارے سو گئے سب |
| جتنے سورج تھے سرِ شب دیکھو کھو گئے سب |
| اور کوئی چاند تھا جو سرِ شام ہی کھو گیا ہے |
| اور سو گئی ہوگی شاید وہ مہ زادی بھی |
| اٹھو اے میرے پاگل میرے دیوانے دل |
| مجھے بھی اب سونے دو اور خود بھی سو جاؤ |
| اٹھو اس بے نور فلک کو تکنے سے کیا ہوگا |
معلومات