| آئی ہے عید عید پہ خوشیاں اچھال رکھ |
| خود کو نہ یومِ عید تو آشفتہ حال رکھ |
| دعوت پہ جا رہا ہے تو جیبوں میں مال رکھ |
| دینی پڑے گی بچوں کو عیدی خیال رکھ |
| مل جائے گی کسی نا کسی سے نہ فکر کر |
| عیدی کے واسطے نہ تو جاں کو نڈھال رکھ |
| آ جائے کچھ تو تھوڑا بہت گوشت عید پر |
| ہمسائیوں سے تھوڑی بہت بول چال رکھ |
| تجھ کو گلے لگائیں گے سب عید پر سحاب |
| عیدی سے اپنے یاروں کو بس مالا مال رکھ |
| دلبر گلے لگا لے تجھے عید پر سحاب |
| دلبر کو اپنے پیار سے بے حد نہال رکھ |
معلومات