تھا حکم سب میں کھاؤں بس اک پھل کو چھوڑ کے
میں بد نصیب کھا گیا وہ پھل ہی توڑ کے
کب سے منا رہا ہوں انہیں ہاتھ جوڑ کے
ہو کر خفا وہ بیٹھ گۓ منہ کو موڑ کے
تم نے یوں رکھ دیا مرا دل توڑ پھوڑ کے
تنگ آ گیا ہوں میں تو اسے جوڑ جوڑ کے
کچھ دیر قبل تھا نہ کوئی آپ سا خلیق
بیٹھے ہیں تھوڑی دیر میں ہی مُنہ سکوڑ کے
ہوتی ہے ان کے دل میں کدورت بے انتہا
ملتے لبادہ ہیں جو شرافت کا اوڑھ کے
اتنا کہ تنگ عشق کے ہاتھوں ہوں آ گیا
رکھ دوں کہیں نہ اس کی میں گردن مروڑ کے
تر آنسوؤں سے ہو گیا پھر ایک پل میں ہی
بیٹھا ہی تھا ابھی تو میں دامن نچوڑ کے
ایسا ہی حال میرے جنوں کا اگر رہا
رکھ دوں نہ تیرے در پہ سر اپنا میں پھوڑ کے
قیمت فی اشک بھی جو مقرر ہو اک ٹکا
بازار میں بکیں گے ہزاروں کروڑ کے
تسلیم اپنی آپ کے ہاتھوں شکست ہے
ماہر نہیں ہیں آپ سے ہم جوڑ توڑ کے
ہم اس مقام پر ہیں ابھی تک کھڑے ہوۓ
تم جس مقام پر گۓ تھے ہم کو چھوڑ کے

0
3