| عقل نے چاہا مگر دل نے بھلانے نہ دیا |
| جلوۂ یار کی یادوں کو مٹانے نہ دیا |
| ہم نے جب چاہا تری سمت کو جائیں ، افسوس! |
| ہم کو مجبورئ حالات نے جانے نہ دیا |
| دل تڑپتا رہا جس شخص کی خاطر ، اس نے |
| اپنی تصویر کو بھی دل سے لگانے نہ دیا |
| ضبط کا عہد کیا تھا دلِ ناداں نے کبھی |
| چشمِ نم نے مگر اک غم بھی چھپانے نہ دیا |
| گردشِ بخت یہ کس موڑ پہ لے آئی ہمیں |
| چشمِ الفت بھی نہیں، جاں سے بھی جانے نہ دیا |
| گر تو آتا تو بدلتا مرے دل کا موسم |
| خوفِ رسوائی نے تجھ کو کبھی آنے نہ دیا |
| اشکِ پیہم کی ٹپکتی ہوئی بوندوں کی قسم |
| عکسِ جاناں کو کبھی دل نے گمانے نہ دیا |
| یارِ بے فیض سے سامیؔ کو وفا کی ہے امید |
| جس نے پلکوں پہ کوئی خواب سجانے نہ دیا |
معلومات