| نقشِ پا اور گرد دوست نہیں |
| وہم سا شاملِ سفر ہے سو ہے |
| خبرِ کوچۂِ گماں تو سُن |
| سبھی کا ہونا مختصر ہے سو ہے |
| بھار کیسے اٹھائیے خود کا |
| دل ہی دراصل بے خبر ہے سو ہے |
| آرزو کرنا، کرتے ہی جانا |
| سر کو یہ خاک معتبر ہے سو ہے |
| پھر تحّمل سے یا تحّیر سے |
| زندگی کا گزر بسر ہے سو ہے |
معلومات