نقشِ پا اور گرد دوست نہیں
وہم سا شاملِ سفر ہے سو ہے
خبرِ کوچۂِ گماں تو سُن
سبھی کا ہونا مختصر ہے سو ہے
بھار کیسے اٹھائیے خود کا
دل ہی دراصل بے خبر ہے سو ہے
آرزو کرنا، کرتے ہی جانا
سر کو یہ خاک معتبر ہے سو ہے
پھر تحّمل سے یا تحّیر سے
زندگی کا گزر بسر ہے سو ہے

0
2