درد سے آنکھ کی ویرانی سے
خوف آتا ہے مجھے پانی سے
کاٹ دیتا ہے محبت کا دکھ
راس آتا نہیں آسانی سے
بھاؤ الفت کا نہیں دنیا میں
جنس لٹ جاتی ہے ارزانی سے
شہر میں آ کے مقدر جانو
لوگ مرتے ہیں پریشانی سے
سوچتے بحر میں اترا ہر دل
وہ تو بچ جائے گا طغیانی سے
ایک اٹھتا ہے دھواں ہونٹوں سے
جان چھٹتی نہیں دیوانی سے
پھر سے آباد ہے تاروں کی شب
چاند بھی تخت سلیمانی سے
یار مسند پہ بٹھا کے ہم نے
پوچھا ہے رت ہوئی مستانی سے
رات ، غم ، ہجر کے سائے ، شاہد
جھجھکتے کیوں نہیں قربانی سے

0
4