خوشی میں محبت کا سہرا بنا ہے
میرا بھائی گلفام نو شہ بنا ہے
خدا کی عنایت کا ہے یہ کرشمہ
ہے سنت پہ گویا عمل کا یہ جذبہ
مبارک ہو تم کو یہ شادی کا تحفہ
بہت خوبصورت یہ دولہا سجا ہے
تیرے والد محترم کی دعا کی ہے
تمنا ہے امی کی اور التجا ہے
عطا چاند جیسی تجھے ہمسفر ہو
سدا خوش رہو تم یہ ماں کی دعا ہے
تجھے بابو کہہ کر وہ دولہا بناتے
بڑے بھائی ہوتے گلے سے لگا تے
نہ بر ساؤ آنسوں خدا کی ہے حکمت
بڑی بہن بھی تو خدا کی عطا ہے
بڑی بہن کی ہم پہ شفقت عیاں ہے
ترے ناز و نخرے کو جس نے سہا ہے
سدا خوش رہو تم نہ آئے کبھی غم
تری بہن زینب کی رب سے دعا ہے
اُدھر حور کردار پردہ نشیں ہے
ہے وہ باوفا باحیا دلنشیں ہے
اِدھر چاند سہرے میں اپنا چھپا ہے
جو ہے باصفا جس کی سیرت جدا ہے
مسرت کی محفل سجائی گئی ہے
خوشی میں مگن آج یہ مہ جبیں ہے
رقیبہ کے لب پر خوشی کا ہے نغمہ
چمن میں ہر اک سو یہ چرچہ ہوا ہے
گلاب اور گل ہے کنول جیسی دولہن
یہ پیارے حسیں دو دلوں کا ہے بندھن
ہیں گلفام شاداں گلفشاں سے مل کر
محبت کے پھولوں کا سہرا بنا ہے
ہیں محمود بھائی بھی رب سےدعا گو
یہ کہتے ہیں خورشید آصف مگن میں
نہیں کوئی تجھ سا ہمارے چمن میں
محافظ ترا ہر قدم پر خدا ہے
بڑی الفتوں سے بنایا گیا ہے
حسیں گل سے سہرا سجایا گیا ہے
یہ جنت بھی نعمت ہے عظمت دعا گو
مبارک ہو تجھ کو سہانا سماں ہے
تیرے بھائی راجا نے گھر کو سجایا
خوشی جھوم اٹھی یہ دل مسکرایا
ترا بھائی یوسف بھی نغمہ سرا ہے
ہے گھر جس سے روشن تو ایسا دیا ہے
تمھیں یاد نانی کی آئے گی بے شک
اکیلے میں تم کو ستائے گی بے شک
مگر سر پہ نانا کی شفقت ابھی ہے
سنو یہ بھی نعمت بہت ہی گراں ہے
ہیں مامو ترے سب دعا گو ہمہ تن
مہکتا رہے تیری خوشیوں کا گلشن
ترے سب اقارب بڑے شادماں ہیں
گھڑی پُر مسرت ہے ارماں جواں ہیں
ملن دو دلوں کا رہے تا قیامت
رہے نظرِ بد سے یہ رشتہ سلامت
ہو دونوں گھرانے میں الفت خدایا
یہ گلزار کی مختصر التجا ہے
کھڑا ہر قدم پرکوئی فتنہ گر ہے
سنو تم نہایت کٹھن رہ گزر ہے
گناہوں سے دامن تم اپنا بچانا
رسولِ خداﷺ کو نمونہ بنانا
پیامِ ہدایت یہ سہرا بنا ہے

0
5