کھلی کلیاں، فضا مہکی، گلوں میں دلکشی آئی
تری آمد سے اس ویراں چمن میں تازگی آئی
بڑی مدت سے تاریکی تھی چھائی دل کے آنگن میں
تری آہٹ سے جیسے لوٹ کر پھر چاندنی آئی
بہت مایوس تھا لیکن، میں سچ کہتا ہوں اے ہمدم
تری مسکان سے پھر زندگی میں روشنی آئی
خزاں کی زد میں گلشن مسکرانا بھول بیٹھا تھا
تری خوشبو سے شاخوں پر نئی تازہ کلی آئی
کنولؔ مدت سے سویا تھا سخن کا ساز اس دل میں
تری ترغیب سے جاگا تخیل، آگہی آئی

0
3