| نِکل کر جسمِ خاکی سے، تُو رُوحِ دو جَہاں ہو جا |
| اُتر کر بَحرِ وَحدت میں، تُو بَحرِ بے کَراں ہو جا |
| مَکاں تیرا بُتِ خاکی، مگر منزل ہے آفاقی |
| مِلا کر خاک میں خاکی، مکینِ لَا مَکاں ہو جا |
| عَدم سے کون آیا ہے، عَدم کو کون جائے گا |
| اَزل میں تُو نِہاں ہی تھا، اَبد میں تُو عَیاں ہو جا |
| تُجھے بخشی زُباں جس نے، سِکھایا ہے بَیاں جس نے |
| اُسی کی تُو زُباں ہو جا، اُسی کا ہی بَیاں ہو جا |
| گُزاری ہے عمر تُو نے، شَریعت کی مُسافت میں |
| جَلا کے نَفْسِ اَمَّارَہ، طَریقت کا جَواں ہو جا |
| تمنّا ہے اگر تُجھ کو، جمالِ ذات پانے کی |
| فنا ہو کر تُو مُرشد میں، نِشانِ بے نِشاں ہو جا |
| کھڑا ہے کیوں مُحبت کے سمندر کے کنارے پر |
| لگا کے نعرہ مَستانہ، یہاں سے تُو وَہاں ہو جا |
| شرابِ "مَنْ عَرَفْ" پی کر، طَوافِ سَرمَدی کر لے |
| اَگر چاہو عَیاں حق ہو، خُودی میں پھر نِہاں ہو جا |
| اگر رِندی نہ مِل پائے، تو کر احسان رِندوں پر |
| بنا مَیخانہ دِل اپنا، تُو ساقی کی دُکاں ہو جا |
معلومات