قضا کی آنکھ میں تھا ڈر حسین نے دیکھا
یزیدیوں کا یوں لشکر حسین نے دیکھا
گیا نہ چھوڑ کے ان کو صحابی زاد کوئی
بجھا چراغ جلا کر حسین نے دیکھا
نہ اک نگاہ بھی دیکھا فرات کی جانب
جب اس کے بدلے میں کوثر حسین نے دیکھا
لگا تھا دین کے بازو الگ ہوئے تن سے
بریدہ غازی کا جب سر حسین نے دیکھا
جوانِ رعنا ، شبیہِ نبی ، لہو آلود
نجانے کیسے یہ منظر حسین نے دیکھا
قبول رب کی رضا جان و دل سے کی لیکن
وہ جیسے جانبِ اصغر حسین نے دیکھا
بلا رہے ہیں نبی ، فاطمہ ، حسن ، حیدر
ہٹی جو غیب کی چادر حسین نے دیکھا
رہا شمر نہ کہیں منہ دکھانے لائق پھر
شمر کے ہاتھ میں خنجر حسین نے دیکھا
سبھی کہیں گے سرِ حشر اسیرِ حبِ حُسین
اگر قمرؔ کو نظر بھر حسین نے دیکھا
قمرآسیؔ

0
4