تلخئی روز و شب کا سبب، اب یاد نہیں
دل کی دنیا ہوئی ویراں کب یاد نہیں
,
وقت کی دھند نے دھندلا دیے کیسے منظر
لوگ بچھڑ گئے کیسے کہاں کب یاد نہیں
,
مرتا تھا میں جن پر دیوانوں کی طرح
وہ چہرہ وہ آنکھیں وہ لب یاد نہیں
.
سو گیا کب وہ دیوانہ کس کو معلوم
بجھ گیا کب وہ مہتابِ شب یاد نہیں
.
کل تک تو تیرے دروازے پر کھڑے تھے
آج کہاں گئے وہ تشنہ لب یاد نہیں
.
ایک گئے دنوں کی کوئی مہ زادی تھی
نام اس کا مریم تھا کہ زینب یاد نہیں
.
ہم ان کی محفل میں عرضِ مطلب کو
آ تو گئے پر عرضِ مطلب یاد نہیں

0
22