جب جوش جنوں عقل کی تردید کرے گا
تب موسم گل لوٹ کے تجدید کرے گا
اٹھے گا یہاں پھر نہ کبھی شور تمنا
دل بیچ یہی یاس اب امید کرے گا
جو بیچ محبت کے فنا ہوتا ہے اے دل
حاصل وہی تو ہستیٔ جاوید کرے گا
جس روز کہ پہنچے گی نئی کوئی مصیبت
اس روز ترا خوگر غم عید کرے گا
رکھتا ہے جبیں در پہ ترے گنبد گرداں
سجدہ ترے دروازے پر خورشید کرے گا
شاعر جو سمجھا ہے خود اپنے تئیں موجود
وہ فہم نہیں معنیٔ توحید کرے گا

4