دنیا کی ظلمتوں میں منوّر ہیں بدر چشت
عالم کی خشکیوں پہ سمُندر ہیں بدر چشت
جس پر نظر پڑی اسے خوش حال کر دیا
مہر و وفا خلوص کا پیکر ہیں بدر چشت
ہر ایک تشنہ لب کو ملے گا یہیں سے جام
عرفان و آگہی کا وہ ساغر ہیں بدر چشت
جو آ گیا ہے سایۂ رحمت میں آپ کے
اس کے لئے سکون کی چادر ہیں بدر چشت
طوفانِ کفر و شر میں جو قائم رہا سدا
حق کی زمین پر وہی پیکر ہیں بدرِ چشت
شامل ہوں آج میں بھی جو اس بزم میں عزیز
مجھ جیسے کم نصیب کے یاور ہیں بدرِ چشت

0