| تیرا وصال ہے، میں ہوں اور ملال ہے |
| اے زندگی ترا ہر لمحہ کمال ہے |
| کہنے کو زندگی تو میری ہی ہے مگر |
| مجھ سے زیادہ مجھ کو ان کا خیال ہے |
| دل کہہ رہا ہے ہر پل ہر لمحہ بار بار |
| تو ہی جوابِ ہر اک مشکل سوال ہے |
| یوں لگ رہا ہے اے دل تیرے بنا مرا |
| جینا وبال ہے اور مرنا محال ہے |
| حجرہ یہ جو مقفل ہے اس لئے کہ یاں |
| ان کے رخِ حسیں کے ابرو کا بال ہے |
| چہرے پہ میرے رونق پہلے سے بڑھ گئی |
| دن رات انکی فکر کا تحفہ کمال ہے |
| ملتا نہیں ہوں راہی ہاتھ اب کسی سے میں |
| مل کر گئے وہ جب سے تب سے یہ حال ہے |
معلومات