دل چوٹ کھا چکا ہے لیکن گلہ نہیں ہے
ہر شخص کو جہاں میں یہ دکھ عطا نہیں ہے
محروم رہ نہ جاؤں میں الفتوں سے تیری
ان قسمتوں کو میری ، تجھ سا ملا نہیں ہے
سائے سے چونک جائے یا پار جا کے اترے
تنہا یہ دل ، مسافر رہ آشنا نہیں ہے
کمزور ہیں نگاہیں ، ہے دور گرچہ منزل
قدموں کو روک لے جو وہ آبلہ نہیں ہے
مجھ کو وہ دے بلندی یا بخش دے وہ پستی
مالک جہاں کا لیکن مجھ سے جدا نہیں ہے
ہر زخم سو جگہ سے نا سور بن گیا ہے
سچ بولنے کا مجھ میں پر حوصلہ نہیں ہے
درماندگی میں شاہد کچھ بن پڑے نہ شاید
سچ ہے یہ اک حقیقت یہ التجا نہیں ہے

0
4