ایک بار دید ہوئی بار بار عار ہوا
تب سے لیکے آج تلک صرف انتظار ہوا
کوئی راز کہہ نہ سکا سامنے وہ کھُل کے کبھی
پہلے بے قرار کیا پھر وہ بے قرار ہوا
عقل مند ہو گئے وہ مشورے پسند نہیں
بچے اب سیانے ہوئے ختم اختیار ہوا
ظلم کے خلاف اگر ہاتھ جو بلند کیا
وہ بڑا گناہ کیا اور ذلیل و خوار ہوا
ہم یہی سمجھ رہے تھے ہم سبھی ہیں جانِ وطن
ان کے تلخ بول سے اب ذہن تار تار ہوا
اب سے پہلے تیر و کماں طنز کے یوں چل رہے تھے
اب تو تیر زہر بھرا خاص دل کے پار ہوا

0