ایک شدت کی پیاس رہتی ہے
تجھ سے ملنے کی آس رہتی ہے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں تمہیں جگنو
شام میری اداس رہتی ہے
اک زمانہ ہوا ملے تم سے
اب بھی جاں بد حواس رہتی ہے
ہم کو مدہوش کر رہی ہے جو
وہ مہک آس پاس رہتی ہے
حادثے ایسے بھی کئی گزرے ہیں
جن کی دل میں کھٹاس رہتی ہے
دوری بن کے کوئی حقیقت یوں
اب دریدہ لباس رہتی ہے
آستینوں میں اب نہیں کچھ بھی
زہر کی بس مٹھاس رہتی ہے
سب گئے چھوڑ اس محبت میں
شب مگر غم شناس رہتی ہے
سوکھ شاہد ! گئے کتابوں میں
پر گلابوں کی باس رہتی ہے

0
4