نبی کا گھرانہ بڑی شان والا
ہے یہ آستانہ بڑی شان والا
ہیں دربان جن کے خدا کے فرشتے
وہ پاک گھرانہ بڑی شان والا
جہاں میں یہ ہے سب گھرانوں سے اعلیٰ
اسی نے مجھے ہے دکھوں سے نکالا
حشر میں میں دے دوں جو انکا حوالہ
کہ ہے یہ حوالہ بڑی شان والا
اس کے بَجُز ہے کہاں کوئی چارا
اسی ایک در کا ہمیں ہے سہارا
ہے زہرہ کے صدقے سے میرا گزارا
کہ اس در پہ آنا بڑی شان والا
حسین و حسن ہیں نبی کے نواسے
انہی کے کرم سے ہمیں ہیں دلاسے
جائیں ہم کیوں بھلا جہنم کے پاسے
کہ جنت ٹھکانہ بڑی شان والا
یہ ہے پنجتن کا میرے سر پہ سایہ
کہ عیبوں کو میرے ہے رب نے چھپایا
ہے طاہرؔ کو اپنے در کا بنایا
کہ یہ پیر خانہ بڑی شان والا

0
48