| میں ہوں چکوری چاند عربؐ کی، طیبہ والے چاند نگر کی |
| ملک عجم میں پھرتی ہوں، آس پُجاؤ اِس بے گھر کی |
| بِرہا کی ماری مَیں بے چاری، تکتی جاؤں راہ قَمر کی |
| تکتے تکتے رَین ہے گُزری، تک تک ہاری تاب نظر کی |
| وِرہ کی اَگنی دل کو بُھونے، بُجھتی ناہی پی پی خُونے |
| دیکھ ہجر فراق کے شُعلے، حیرت میں ہے آگ سَقر کی |
| مَن موہن دو جگ کے والی، دید کو ترسے یہ متوالی |
| باندی تیری بَردی تیری، میں بلہاری رُخ اَنور کی |
| " کَرَّمْنَا" ہے تاج پِیا کا ، اَزل سے جاری راج پِیا کا |
| وَصل کی اَمرت کیسے پاؤں، وہؐ نوری مَیں خاک بشر کی |
| زُلف پِیا سے رَین بنی ہے، نُوری مُکھ سے سُرَگ سجی ہے |
| دیکھی جب سے پَھبن پِیا کی ، سُدھ بدھ ناہی شام سحر کی |
| تیر ے ہاتھ اب ڈور ہے ساجن، یہ مُورکھ کمزور ہے ساجن |
| جس کا ساجن چاند عربؐ کا، اُس کوکیسی فکر حَشر کی |
معلومات