| ایک ایک کر کے سب ہی مجھے چھوڑتے گئے |
| سیلابِ غم کو میری طرف موڑتے گئے |
| کتنے عجیب لوگ تھے معمولی بات پر |
| برسوں پرانی دوستی کو توڑتے گئے |
| ایک ایک کر کے سب ہی مجھے چھوڑتے گئے |
| سیلابِ غم کو میری طرف موڑتے گئے |
| کتنے عجیب لوگ تھے معمولی بات پر |
| برسوں پرانی دوستی کو توڑتے گئے |
معلومات