| بنیاد میں لہو ہے وطن کے جوانوں کا |
| طوفان بھی ہلا نہیں سکتا کبھی اسے |
| ٹکرانے کا خیال جو رکھتا ہے دیس سے |
| مٹ جائے گا مٹا نہیں سکتا کبھی اسے |
| میاؔں حمزہ |
| بنیاد میں لہو ہے وطن کے جوانوں کا |
| طوفان بھی ہلا نہیں سکتا کبھی اسے |
| ٹکرانے کا خیال جو رکھتا ہے دیس سے |
| مٹ جائے گا مٹا نہیں سکتا کبھی اسے |
| میاؔں حمزہ |
معلومات