بنیاد میں لہو ہے وطن کے جوانوں کا
طوفان بھی ہلا نہیں سکتا کبھی اسے
ٹکرانے کا خیال جو رکھتا ہے دیس سے
مٹ جائے گا مٹا نہیں سکتا کبھی اسے
میاؔں حمزہ

0
2