اِس دُنیا سے اور کِدھر جانا ہے
سر ٹکراتے اِدھر ہی مر جانا ہے
ارمانوں کو چڑھا کے سُولی پر
مَرقَد میں تہی دست اُتر جانا ہے

0
5