نہ نفرتوں میں اثر ہوتا تو میں بھی وہاں ہوتا
وہاں بے گھر نہیں ہوتا یہاں مِرا مکاں ہوتا
خلوص دل سے کوئی چاہتے ہوئے نہیں چاہا
نہیں تو اس زمیں پر کیا فلک پر آشیاں ہوتا
لہو لہان ہیں غنچے نظارہ ہے یہ چمن کا
ترے نہ ہونے سے شاداب آج گلستاں ہوتا
پہنچ گئی ہے وہ آتش نظر سے جان و جگر تک
یوں ہجرِ یار میں دل سے نہ اٹھ رہا دھواں ہوتا
ہر ایک چاہنے والا اگر وفاؤں سے مجھ کو
نوازتا تو مِرا حال یہ نہ یوں زیاں ہوتا

0
6