خاکِ اَرضی پہ نُور آیا ہے
رَب کی مَرضی سے نُور آیا ہے
پاک طِینت نَسَب یہ سارا ہے
پاک پُشتوں سے نُور آیا ہے
مرحَبا مرحَبا دوعالم کو
آؤ دیکھو کہ نُور آیا ہے
کَنزِ مَخفی کے عَکسِ اَقدس سے
ذاتِ احمدؐ کا نُور آیا ہے
سب سے اوّل جو تھا خَلائِق میں
سب سے آخر وہ نُور آیا ہے
جو اِرادہ تھا نُورِ مُطلَق کا
اُس اِرادے کو نُور آیا ہے
دیکھ سکتی نہیں جسے آنکھیں
وہ دِکھانے کو نُور آیا ہے
نُور آیا ہے آپؐ کی صورت
بن کے قرآں بھی نُور آیا ہے
نُورِ حق کے ہی رنگ سارے ہیں
رنگِ عالَم میں نُور آیا ہے
کیسے کہہ دوں کہ کُچھ نہیں دیتے
نُور دینے کو نُور آیا ہے
کربلا میں حُسینؑ کی صورت
رَدِّ ظُلمت کو نُور آیا ہے
راہِ اُلفت ہے روشنی کا سفر
رہنمائی کو نُور آیا ہے
جس نے مانا ہے نُورِ احمد کو
اُس کے سینے میں نُور آیا ہے
جب سے میلاد مَیں مناتا ہوں
میرے چہرے پہ نُور آیا ہے
قبرِ عاشق غلاؔم کو دیکھو
ضُو فِشانی کو نُور آیا ہے

0
9