میرے اشعار میں اقبال کی نسبت آ جائے
کاش پھر فکر و نظر میں وہ بصیرت آ جائے
فاصلہ ساتھ نبھانے کو ہے لازم ورنہ
سورج آ جائے زمیں پر تو قیامت آ جائے
پھر نہیں خوف کوئی دونوں بڑے جابروں سے
سبز گلفاموں کو گر رسمِ بغاوت آ جائے
اتنے شل ہیں کہ نہیں اٹھتے دعاؤں کے لیے
کچھ تو یا رب مرے ہاتھوں میں حرارت آ جائے
علم و فن تو ہے مگر تشنۂ فکر و ادراک
مجھ کو ڈر ہے کہ نہ پھر عہدِ جہالت آ جائے

5