بزمِ ہستی مرے خدا کیا ہے
یہ زمیں کیا ہے اور سما کیا ہے
دردِ دل سے سکون ملتا ہے
کس سے پوچھوں مجھے ہوا کیا ہے
خود ہی غفلت شعار تھے ہم تو
اب کسی سے کوئی گلہ کیا ہے
چین دن کو نہ نیند راتوں کو
روگ مجھ کو یہ لگ گیا کیا ہے
رب کو بھولا تَو خود کو بھول گیا
اس سے بڑھ کر تری سزا کیا ہے
ایسا انمول کوئی ہیرا نہیں
کیا بتاؤں تجھے حیا کیا ہے
کون پوچھے جفا شعاروں سے
مہر کیا چیز ہے وفا کیا ہے
بے ضمیری ہے ہر سو چھائی ہوئی
اس سے مہلک کوئی وبا کیا ہے
مل گئے تم تو کائنات ملی
اب مجھے حاجتِ دعا کیا ہے
لے چکے دل تو ناز سے بولے
پاس تیرے بتا بچا کیا ہے
کچھ خبر تھی نہ نازِ کشتہ کو
آستیں میں تری چھپا کیا ہے

6